Popular Posts

Wednesday, November 16, 2011

sexy pictures

پانی چھوڑتی چوت کی چدائی

پانی چھوڑتی چوت کی چدائی




دوستو! میرا نام ندیم ہے۔ مجھے آپ جانتے ہی ہیں اور اس سے پہلے آپ میرے دو واقعات "بیوی کی مدد سے شازیہ کا ریپ" اور "لڑکیوں اور عورتوں کی گانڈ مارنے کے درست طریقے" پڑھ چکے ہیں۔آج میں ایک اور سچا واقعہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔

میں 28 سال کا ہوں اور ایک پرائیویٹ فرم میں جاب کرتا ہوں۔ میری شادی ہو چکی ہے اور میں اپنی بیوی عروج کے ساتھ اسلام آباد میں رہ رہا تھا۔ دو مہینے پہلے میری ماموں زاد بہن 12ویں کے امتحانات کے بعد ہمارے ساتھ رہنے آ گئی۔ اس کو ابھی سپوکن انگلش کا ایک کورس کرنا تھا پھر نمل یونیورسٹی سے بی اے۔ اس کے ممی پاپا اسے ہمارے گھر چھوڑ کر چلے گئے اور مجھے اس کا گارڈین بنا گئے۔ بی اے میں داخلہ کے بعد اسے ہاسٹل ملنے پر اسے ہاسٹل جانا تھا۔ اس کا نام نوشین تھا، 18 سال کی نوشین کی پر جوانی خوب چڑھ رہی تھی۔ 5’5" کی نوشین کا رنگ تھوڑا سانولا تھا، پر اکہرے بدن کی نوشین کی فگر میں غضب کا نشہ تھا۔ 34 22 34 کی نوشین کو جب بھی میں دیکھتا میرا لنڈ کھڑا ہونا شروع ہو جاتا۔ حالانکہ میں دکھاوا کرتا کہ مجھے اس کے بدن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، پر مجھے پتا تھا کہ نوشین کو بھی میری نظر کا احساس ہے۔ تقریباً ایک مہینے میں ہم لوگ کافی گھل مل گئے۔ انہی دنوں میری بیوی عروج کو اپنے میکے جانا پڑا اور میں نے نوشین کو چودنے کا ارادہ عروج کے واپس آنے تک ملتوی کر دیا۔

میرے دونوں قریبی دوستوں سلیم اور انور سے بھی نوشین خوب فرینڈلی ہو گئی تھی۔ وہ دونوں لگ بھگ روز میرے گھر آتے تھے۔ مئی کے دوسرے سوموار کے ایک دوپہر کی بات ہے۔ نوشین کوچنگ کلاس گئی تھی اور ہم تینوں دوست بیٹھ کر بیئر پی رہے تھے۔ بات کا موضوع تب نوشین ہی تھی۔ میرے دونوں دوست اس کی فگر اور باڈی کی بات کر رہے تھے، پر میں چپ تھا۔

انور نے مجھے چھیڑا کہ میں ایکدم بیوقوف ہوں کہ اب تک اس کی جوانی بھی نہیں دیکھی ہے۔ میرے یہ کہنے پر کہ وہ مجھے بھائی بولتی ہے، دونوں ہنسنے لگے اور کہا کہ ٹھیک ہے، ہم لوگ کوشش کر کے اس کو تھوڑا ڈھیٹ بنائیں گے، پر ان دونوں نے شرط رکھی کہ میں بھی موقع ملتے ہی اسے چود دوں گا اور پھر ان دونوں کو یہ واقعہ بتاؤں گا۔

پھر انور بولا یار اس کی ایک پینٹی لا دو، تو میں ابھی مٹھ مار لوں۔ تبھی دروازے کی گھنٹی بجی اور نوشین گھر آ گئی۔ سفید شلوار اور پیلے چکن کے کرتے میں وہ غضب کی سیکسی دکھ رہی تھی۔ ہم سب کو بیئر کے مزے لیتے دیکھ وہ مسکرائی، سلیم نے اس کو بھی بیئر میں ساتھ دینے کو دعوت دی۔ میری توقع کے خلاف وہ ہم لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئی۔

ہم لوگ ادھر ادھر کی بات کرتے ہوئے بیئر کا مزا لے رہے تھے۔ نوشین بھی خوب مزے لے رہی تھی۔ ایک ایک بوتل پینے کے بعد سلیم بولا کیوں نہ ہم لوگ تاش کھیلیں، وقت اچھا کٹے گا۔ سب کے ہاں کہنے پر میں تاش لے آیا اور تب سلیم بولا چلو اب آج کے دن کو فن ڈے بنایا جائے۔

نوشین نے ہاں میں ہاں ملائی۔

سلیم اب بولا ہم سب سٹریپ پوکر کھیلتے ہیں، اگر نوشین ہاں کہے تو! ویسے بھی اب آج فن ڈے ہے۔

نوشین کا جواب تھا اگر بھیا کو پریشانی نہیں ہے تو مجھے بھی کوئی پریشانی نہیں ہے۔

اب انور بولا نوشین! ہم لوگوں کے بدن پر چار چار کپڑے ہیں، تم اپنا دوپٹا ہٹاؤ نہیں تو تمہارے پانچ کپڑے ہوں گے۔

نوشین مزے کے موڈ میں تھی، بولی نہیں، اکیلی لڑکی کھیلوں گی، تین لڑکوں کے ساتھ مجھے اتنی تو چھوٹ ملنی چاہیے۔

سلیم فیصلہ کرتے ہوئے بولا ٹھیک ہے، پر ہم لڑکوں کے کپڑے تم کو اتارنے ہوں گے، اور تمہارا کپڑا وہ لڑکا اتارے گا جس کے سب سے زیادہ پوائنٹس ہوں گے۔

میں سب سن رہا تھا، اور من ہی من میں خوش ہو رہا تھا۔ اب مجھے لگ رہا تھا کہ میں سچ میں بیوقوف ہوں، نوشین تو پہلے سے ہی مست لونڈیا تھی۔

میرے سامنے انور تھا، نوشین میرے داہنے اور سلیم میرے بائیں تھا۔ پہلا گیم انور ہارا اور گیم کے مطابق نوشین نے انور کی قمیض اتار دی۔

دوسرے گیم میں میں ہار گیا، اور نوشین مسکراتے ہوئے میرے قریب آئی اور میری ٹی شرٹ اتار دی۔ پہلی بار نوشین کا ایسا لمس مجھے اچھا لگا۔

تیسرے گیم میں نوشین ہار گئی اور سلیم کو اس کا ایک کپڑا اتارنا تھا۔ سلیم نے اپنے داہنے ہاتھ سے اس کا دوپٹا ہٹا دیا اور اپنے بائیں ہاتھ سے اس کی ایک چونچی کو ہلکے سے چھو لیا۔ میرا لنڈ اب سرسرانے لگا تھا۔

اگلے دو گیم سلیم ہارا اور اس کے بدن سے ٹی شرٹ اور بنیان دونوں اتر گئے۔

اس کے بعد والی گیم میں ہارا اور میرے بدن سے بھی بنیان ہٹ گئی اور پھر جب سلیم ہارا تو اب پہلی بار کسی کا کمر کے نیچے سے کپڑا اترا۔ نوشین نے خوب خوش ہوتے ہوئے سلیم کی جینز کھول دی۔ میکرومین برف میں سلیم کا لنڈ ہارڈ ہو رہا ہے، صاف دکھ رہا تھا۔

ایک نئی بیئر کی بوتل تبھی کھلی۔ اس کے مزے لیتے ہوئے پتے بٹے، اور اس گیم میں نوشین ہار گئی، اور انور کو اس کے بدن سے کپڑا ہٹانا تھا۔ نوشین اب میرے سامنے انور کی طرف پیٹھ کر کے کھڑی ہو گئی، جس سے انور کو اس کے کرتے کی زپ کھولنے میں سہولت ہو۔

انور نے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو پیچھے سے اس کی چونچی پہ لا کر دو تین بار چونچیاں مسلیں، اور پھر اس کے کرتے کی زپ کھول کے کرتے کو اس کے بدن سے الگ کر دیا۔ اب نوشین صرف شلوار اور برا میں ہمارے سامنے تھی۔ ایک بار ہماری نظر ملی، وہ مجھے دیکھ کر مسکرائی۔ گلابی رنگ کی برا میں کسی اس کی شاندار چھاتی کسی کو بھی مست کر سکتی تھی۔ اس کا ایکدم سپاٹ پیٹ اور گہری ناف دیکھ ہم تینوں لڑکوں کے منہ سے ایک ایئیئیس سس نکلتے نکلتے رہ گیا۔

وہ ایکدم مست دکھ رہی تھی۔ اس کی ناف کے ٹھیک نیچے ایک کالا تل دیکھ سلیم بول اٹھا بیوٹی سپاٹ بھی شاندار جگہ پر ہے نوشین۔ اتنی جاندار فگر ہے تمہاری، تھوڑا اپنے بدن کا خیال رکھو۔

نوشین بولی کتنا ڈایٹنگ کرتی ہوں ندیم بھائی سے پوچھیے۔

سلیم اب بولا میں تمہارے انڈر آرم کے بالوں کے بارے میں کہہ رہا ہوں۔

سچ نوشین کے بغلوں میں خوب سارے بال تھے، کافی بڑے بھی۔ ایسا لگتا تھا کہ نوشین کافی دنوں سے ان کو صاف نہیں کیا ہے۔ پہلی بار میں ایک جوان لڑکی کی بغلوں میں اتنے بال دیکھ رہا تھا اور اپنے دوستوں کو دل میں تھینکس بول رہا تھا کہ ان کی وجہ سے مجھے نوشین کے بدن کو دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔

نوشین پر بیئر کا میٹھا نشا ہو گیا تھا اور وہ اب خوب مزے لے رہی تھی ہم لڑکوں کے ساتھ۔ ویسے نشا تو ہم سب پر تھا بیئر اور نوشین کی جوانی کا۔

نوشین مسکرائی اور بولی چلیے اب پتے بانٹیے بھیا۔ پتے بانٹنے کی میری باری تھی۔

برا میں کسے ہوئے نوشین کی جاندار چونچیوں کو ایک نظر دیکھ کر میں نے پتے بانٹ دیے۔ یہ گیم میں ہار گیا۔ مجھے تھوڑی جھجھک تھی۔

پر جب نوشین خود میرے پاس آکر بولی بھیا کھڑے ہو تا کہ میں تمہاری پینٹ اتاروں!

تب میں بھی مست ہو گیا۔

میں نے کہا اوکے، جب گیم کا یہی اصول ہے تب پھر ٹھیک ہے، کھول دو میری پینٹ، اور میں کھڑا ہو گیا۔

نوشین نے اپنے ہاتھ سے میرے برموڈا کو نیچے کھینچ دیا اور جب جھک کر اس کو میرے پیروں سے باہر کر رہی تھی تب میری نظر اس کے برا میں کسی ہوئی چونچیوں پر تھی، جو اس کے جھکے ہونے سے تھوڑا زیادہ ہی دکھ رہی تھی۔

انور نے اپنا ہاتھ آگے کیا اور نوشین کی شلوار کے اوپر سے ہی اس کے چوتڑ پر ایک ہلکا سا چپت لگایا۔ وہ چونک گئی، اور ہم سب ہنسنے لگے۔

میرا لنڈ فرینچی میں ایکدم کھڑا ہو گیا تھا اور نوشین کو بھی یہ پتا چل رہا تھا۔

اگلی بازی انور ہارا، اور اس کی بھی بنیان اتر گئی۔ پر جب تک نوشین اس کی بنیان اتار رہی تھی، وہ تب تک اس کے ننگے پیٹ اور ناف کو سہلاتا رہا تھا۔

اگلی بازی میں جیتا اور نوشین ہار گئی۔ پہلی بار مجھے نوشین کے بدن سے کپڑا اتارنے کا موقع ملا۔ نوشین میرے سامنے آکر کھڑی ہو گئی۔ میرے دل میں جوش تھا پر تھوڑی جھجھک بھی تھی۔ مجھے نوشین کی شلوار کھولنی تھی۔

میں نے ابھی شلوار کا ازاربند پکڑا ہی تھا کہ انور بولا تھوڑا سنبھل کے! جوان لڑکیوں کی شلوار کے اندر بم ہوتا ہے، دھیان رکھنا ندیم۔

میں جھینپ گیا، نوشین بھی تھوڑا جھینپی، پر پھر سنبھل گئی اور بولی میں کوئی دہشت گرد نہیں ہوں، سیدھی سادھی لڑکی ہوں بھائی، ایسا کیوں بولتے ہیں انور بھیا۔

میں تب تک اس کا ناڑا کھول کے اس کی شلوار نیچے کھسکا چکا تھا، اور وہ اپنے پیر اٹھا کے اس کو پوری طرح سے ٹانگوں سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے کندھوں کو پکڑ کر اپنے پیر اوپر کر رہی تھی، تا کہ میں اس کی شلوار پوری طرح سے اتار سکوں۔

اب جب میں نے نوشین کو دیکھا تو میرا لنڈ ایک بار پوری طرح سے تن گیا۔ گلابی برا اور میرون پینٹی میں نوشین ایک مستانی لونڈیا لگ رہی تھی۔ اس کا سانولا سلونا بدن میرے دوستوں کے بھی لنڈ کا برا حال بنا رہا تھا۔

اس کے بعد کی بازی انور پھر ہارا اور نوشین نے اس کا پینٹ کھول دیا۔ اس بار نوشین کے چوتڑ پہ سلیم نے طبلا بجا دیا، پر اب نوشین نہیں چونکی، وہ شاید سمجھ گئی تھی کہ اکیلی لڑکی ہونے کی وجہ سے اس کو اتنی چھوٹ ہم لڑکوں کو دینی ہوگی۔

اب جب کہ ہم سب اپنے انڈرگارمینٹس میں تھے، سلیم بولا کیا اب ہم لوگ گیم روک دیں؟ کیونکہ اس کے بعد الف ننگا ہونا پڑے گا۔

اس نے اپنی بات ختم بھی نہیں کی تھی کہ انور بولا کوئی بات نہیں، ننگا ہونے کے لیے ہی تو سٹریپ پوکر کھیلا جاتا ہے۔

میں دل سے چاہ رہا تھا کہ کھیل نہ رکے اور میں ایک بار نوشین کو پوری ننگی دیکھوں۔

سلیم نے نوشین سے پوچھا بولو نوشین، تم اکیلی لڑکی ہو، آگے کھیلوگی؟

اس پر تو مزے کا نشا تھا۔ وہ چپ چاپ مجھے دیکھنے لگی، تو انور بولا ارے نوشین تم اپنے اس بھیا کی فکر چھوڑو۔ اگر تم میری بہن ہوتی، تو جتنے دن سے تم اس کے ساتھ ہو، اتنے دن میں یہ سالا تم کو سو بار سے کم نہیں چودتا۔ دیکھتی نہیں ہو، اس کا لنڈ ابھی بھی ایکدم کھڑا ہے، سوراخ میں گھسنے کے لیے۔

اور اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور انڈرویئر کے اوپر سے میرے لنڈ پہ پھیر دیا۔ میں اس بات کی امید نہیں کر رہا تھا، چونک گیا۔ اور سب لوگ ہنسنے لگے، نوشین بھی میری حالت پہ کھل کر ہنسی۔ بیئر کا ہلکا نشا اب ہم سب پر تھا۔

اگلی بازی انور ہار گیا اور نوشین مسکراتے ہوئے اس کو دیکھی۔ انور اپنی ہی مستی میں تھا بولا آؤ، کرو ننگا مجھے۔ تمہارے جیسی سیکسی لونڈیا کے ہاتھوں تو سو بار میں ننگا ہونے کو تیار ہوں۔

اور جب نوشین نے اس کا انڈرویئر کھولا تو اس کا 7" کا پھنپھناتا ہوا لنڈ کھلے میں آ کر اپنا نظارا دینے لگا۔ انور بھی نوشین کو اپنی بانہوں میں کس کر اس کے ہونٹ چومنے لگا اور اس کا لنڈ نوشین کے پیٹ پہ چوٹ مار رہا تھا۔ تین چار چمیوں کے بعد اس نے نوشین کو چھوڑا تب وہ دوبارہ اپنی جگہ پہ بیٹھی۔

انور سائیڈ میں بیٹھ کر اپنے لنڈ سے کھیلنے لگا۔ وہ ساتھ میں اپنا بیئر کا گلاس بھی لے گیا۔

اگلے گیم میں نوشین ہار گئی اور مجھے اس کی برا کھولنی تھی۔ وہ آرام سے میرے سامنے آ کر میری طرف پیٹھ کر کے کھڑی ہو گئی، اور پیٹھ سے اپنے بال سمیٹ کر سامنے کر لیے، تا کہ میں آرام سے اس کے برا کی ہک کھول سکوں۔

میں نے پیار سے برا کا ہک کھولا، اور وہ اب سیدھی ہو گئی، تا کہ میں اس کی چونچیوں پر سے برا نکال سکوں۔ میں نے جونہی برا ہٹایا، نوشین کی چھوٹی چھوٹی گول گول نوکیلی چونچیاں سر ابھارے میرے سامنے تھیں۔ اف کیا نظارا تھا۔میں ساکت کھڑا تھا۔

انور پہ سچ مچ تھوڑا نشا ہو گیا تھا، بولا ابے سالے ندیم، اب تو چھو لے اس کو۔ تیری بہن ہے، بار بار چونچی ننگی کر کے نہیں دے گی تیرے کو۔

اس کی بات سن کر مجھے خوب مزا آیا، پر نوشین کو پتا نہیں کیا لگا، وہ بولی دل چاہتا ہے تو چھو لیجیے ندیم بھائی۔

میں سمجھ گیا کہ اب وہ بھی ہلکے نشے میں تھی۔ میں نے دو چار بار اس کی چونچی پہ ہاتھ پھیرا۔

اگلی بازی میں ہار گیا۔ نوشین خوب خوش ہوئی اور زور سے بولی ہاں اب کروں گی آپ کو ننگا ندیم بھائی۔

میں کھڑا ہو گیا اور اس نے میری فرینچی کو نیچے کر دیا۔

میرا پھنپھنایا ہوا لنڈ آزاد ہو کر خوش ہو گیا۔ میرا ٹوپا سامنے کو کھڑا تھا اور سلامی دے رہا تھا۔

انور کیسے چپ رہتا، وہ بول پڑا نوشین کھیل لو اس لنڈ سے، تمہارے بھیا کا ہے، ہمیشہ نہیں ملے گا دیکھنے کے لیے۔

سلیم بھی بولا کیوں، میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔

اور دونوں ہنسنے لگے۔

نوشین میرے لنڈ کو لے کر سہلانے لگی۔ تب سلیم دوبارہ بولا ہاتھ سے لنڈ کے ساتھ تو لڑکے کھیلتے ہیں نوشین! لڑکی تو لنڈ کا لالی پاپ بنا کر چوستی ہیں۔

نوشین سے میں یہ امید نہیں کر رہا تھا مگر وہ تو فوراً ہی میرے لنڈ کو اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی۔ دو چار بار کے بعد اس نے برا سا منہ بنایا، شاید اس کو اچھا نہیں لگا تو وہ میرا لنڈ چھوڑ کر سلیم کے سامنے بیٹھ گئی۔

سلیم بولا اب کی بازی میں کھیل ختم ہو جائے گا۔ اس لیے جو دوسرے کو ننگا کرے گا وہ ایک منٹ تک اس کے پرائیویٹ پارٹ کو چوسے گا۔ منظور ہے تو بولو ورنہ یہیں پہ کھیل ختم کرتے ہیں۔

نوشین کی آنکھیں لال ہو گئی تھی۔ وہ اب نشے میں تھی۔ اس نے پتے اٹھا لیے اور آخری بازی بٹ گئی۔ میں دل سے چاہ رہا تھا کہ نوشین ہار جائے تا کہ اس کی چوت کا بھی آج نظارا ہو جائے۔

اور میری چاہت رنگ لائی۔ سلیم جیت گیا اور نوشین ہار گئی۔ سلیم نے اب نوشین کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر اس کو سینٹر ٹیبل پہ لٹا دیا اور اس کے دونوں پیروں کے بیچ آ گیا۔ خوب پیار سے اس کی مخملی رانوں کو سہلایا اور پھر مجھے اور انور کو پاس آنے کا اشارا دیا آ جاؤ بھائی لوگو، اب نوشین کی چوت کا دیدار کرو۔

میں تو کب سے بے چین تھا اس پل کے لیے۔

ہم تینوں دوست میز کو گھیر کر کھڑے ہو گئے۔ نوشین اب تک مسکرا رہی تھی۔ سلیم نے نوشین کی پینٹی کے الاسٹک سے نیچے کی جانب فولڈ کرنا شروع کیا۔ دوسرے ہی فولڈ کے بعد نوشین کی جھانٹوں کی جھلک دکھائی دینے لگی۔ دھیرے دھیرے اس کی چوت کی جھلک بھی دکھائی دینے لگی۔

سلیم نے اس کے پیروں کو اوپر کی طرف کر کے پینٹی نیچے سے پیروں سے نکال دی اور پھر دھیرے دھیرے اس کی ٹانگوں کو تھوڑا سائیڈ کی طرف کھول دیا اور اب نوشین کی چوت کی پھانکیں ایکدم سامنے دکھ رہی تھیں۔ نوشین کی چوت پہ 2" لمبے بال تھے اور ان بڑی بڑی جھانٹوں کی وجہ سے اس کے چوت کی دانہ صاف نہیں دکھ رہا تھا۔

سلیم نے اس کی چوت پہ ہاتھ پھیرا اور پھر اس کی جھانٹوں کو ہٹا کر ہم دونوں کو اس کی چوت کے پورے نظارے کرائے۔

جب نوشین کی نظر مجھ سے ملی تب اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنا چہرا ڈھک لیا۔ پر اب مجھے اس کی شرم کی پرواہ نہیں تھی۔ ہم میں سے کسی کو بھی نہیں تھی۔

نوشین بولی بس اب مجھے چھوڑ دیجیے۔

پر سلیم نے اس کو یاد کرایا کہ ابھی تو ایک منٹ تک وہ اس کی چوت کو چوسے گا۔

اس کے بعد وہ نوشین کی چوت چوسنے میں لگ گیا، انور مٹھ مارنے لگا اور میں سب چیزیں سمیٹنے لگا۔ نوشین کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگی تھیں۔

نئی نئی جوانی چڑھی تھی بیچاری پہ، اس لیے وہ اتنا مزا پا کر شاید جھڑ گئی اور بولی اب بس، اب مجھے پیشاب آ رہا ہے۔

پر سلیم تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ نوشین نے دو تین بار اپنے بدن کو سلیم کی گرفت سے چھڑانا چاہا، پھر اسی میز پر ہی سلیم کے چہرے پہ سو سو کرنے لگی۔ سلیم نے اب اپنا چہرا ہٹا لیا۔

نوشین نے اپنا بدن ایکدم ڈھیلا چھوڑ دیا اور خوب پیشاب کیا، پھر پر سکون ہو گئی۔

دو منٹ ایسے ہی رہنے کے بعد اسے کچھ ہوش آیا اور تب وہ اٹھی اور پھر اپنے کپڑے اٹھا کر اپنے بیڈروم میں چلی گئی۔

ہم لوگوں نے بھی اپنے کپڑے پہن لیے۔

سلیم بولا اب تھوڑی دیر اس کو اکیلا چھوڑ ورنہ وہ رونے لگے گی، جب اس کو لگے گا کہ اس بے چاری کے ساتھ شراب کے نشے میں کیا کیا ہوا ہے۔

ہم لوگ اب پاس کی مارکیٹ کی طرف نکل گئے، نوشین تب باتھ روم میں تھی۔

چار دن آرام سے بیت گئے۔

نوشین کے ساتھ تاش کے بہانے ننگ پن کے کھیل کے بعد سلیم اور انور اس دوران گھر نہیں آئے، پر فون پر ہمیشہ مجھ سے پوچھا کہ میں نے اب تک نوشین کو چودا یا نہیں۔

مجھے اتنا ہونے کے بعد بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی نوشین سے سیکس کے لیے کہنے کی۔ نوشین بھی ایسے تھی جیسے اس دن کچھ ہوا ہی نا ہو۔

کھیر، جب سلیم نے الٹی میٹم دے دیا کہ اگر آج میں نے نوشین کو نہیں چودا تو وہ اسے پٹا کے میرے سامنے چودے گا تب مجھے بھی جوش آ گیا، اور شام میں ڈنر ٹیبل پر میں نے نوشین سے کہا، "نوشین، آج رات میرے ساتھ سو جاؤ نا پلیز، اس دن کے بعد سے مجھے بہت بے چینی ہو رہی ہے۔ "

یہ بات میں نے اپنا سر نیچے کر کے کھانا کھاتے ہوئے کہا۔

میری ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ میں نوشین سے نظریں ملاؤں۔

نوشین نے میرے جھجھک یا شرم کو سمجھ لیا اور پھر میرے پاس آ کر میرے سر کو اٹھایا اور کہا، "آج نہیں، دو تین دن بعد! "

اور میرے ہونٹ چوم لیے۔

مجھ میں اب ہمت آ گئی اور میں نے پوچھا، "آج کیوں نہیں، دو تین دن بعد کیوں؟"

اب نوشین مسکراتے ہوئے میرے کان کے پاس سرگوشی کرتے ہوئے بولی، "تھوڑا سمجھا کرو ندیم بھائی! ابھی پیریڈز چل رہے ہیں، اسی لیے کہہ رہی ہوں دو تین دن بعد۔ تب تک اس سے کھیلو! "

کہتے ہوئے اس نے اپنے پستانوں پر میرا ہاتھ رکھ دیا۔ میں خوش ہو گیا کہ چلو اب دو تین دن بعد نوشین جیسی ایک مست لونڈیا ملے گی چودنے کو۔

تیسرے دن جب میں آفس سے لوٹا تو نوشین ایکدم فریش لگ رہی تھی، مجھ سے بولی، "ندیم بھائی! آج کہیں باہر چلیے ڈنر کے لیے۔ "

وہ تیار تھی۔ قریب ایک گھنٹے بعد ہم لوگ ایک چائنیز ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔ وہ میرے ساتھ ایسے برتاؤ کر رہی تھی جیسے وہ میری گرل فرینڈ ہو۔ مجھے بھی مزا آ رہا تھا۔ قریب 9 بجے جب ہم لوٹ رہے تھے تب نوشین نے مجھ سے کہا، "راستے میں کہیں سے کنڈوم خرید لیجیے گا ندیم بھائی۔ "

یہ سن کے میرا لنڈ گرم ہونے لگا۔ میں نے بات ہلکے سے لیتے ہوئے پوچھا، "کیوں، آج رات میرے ساتھ سونا ہے کیا؟"

اور میں نے اس کا ہاتھ زور سے دبا دیا۔

وہ ایک قاتل مسکان کے ساتھ بولی، "آپ کے ساتھ بیڈ پہ جب میں رہوں گی، تب آپ سوئیں گے یا جاگیں گے؟"

میں نے اس کو گھورتے ہوئے کہا، "بہت گہری چیز ہو نوشین تم، ایکدم کتی چیز ہو بھئی۔ "

وہ بھی پورے موڈ میں تھی، بولی، "آپ اور آپ کے دوستوں کا کیا ہے سب، ورنہ میں جب آپ کے پاس آئی تب تک مجھے ہیئر ریموور تک استعمال کرنا نہیں آتا تھا۔ "

میں نے اس کے چوتڑوں پہ ایک چپت لگائی اور کہا، "ہاں، وہ تو اس دن تیری جھانٹیں دیکھ کر ہی پتا چل گیا تھا۔ تم فکر نہ کرو، بنا کنڈوم بھی میں جب کروں گا تو اپنا مال اندر نہیں باہر نکالوں گا۔ "

اور ہم دونوں گھر آ گئے۔

نوشین بولی آپ چلیے، میں تیار ہو کر آتی ہوں۔

پر میرے لیے اب رکنا مشکل تھا، بولا، "اس میں تیار کیا ہونا ہے، ننگا ہونا ہے بس۔ "

اور میں اپنے شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔ کچھ وقت میں ہی میں صرف اپنے فرینچی انڈرویئر میں تھا۔

نوشین پاس کھڑی دیکھ رہی تھی، بولی، "بہت بے چینی ہے کیا؟"

وہ مجھے چڑانے کے موڈ میں تھی۔ میں اس کی یہ ادا دیکھ مست ہو رہا تھا، پر اوپر سے بولا "اب جلدی سے آ اور پیار سے چدوا لے، ورنہ پٹخ کے چوت چود دوں گا۔ سالے یار لوگوں نے روز پوچھ پوچھ کر کان پکا دیے ہیں۔ "

نوشین اب سٹپٹائی اور پوچھا، "کیا آپ اپنے دوستوں سے میرے بارے میں بات کرتے ہیں؟"

اس کے چہرے سے فکر دکھی تو میں نے سچ کہہ دیا، "سلیم اور انور روز پوچھتے ہیں، اس دن کا تاش کا کھیل بھی میرے اور تمہارے بیچ یہی کروانے کے لیے ہی تو تھا۔ اصل میں، جب سے تم آئی ہو اس دن سے وہ دونوں تیرے بدن کے پیچھے پڑے ہیں۔ "

نوشین اب پر سکون ہوئی، "اچھا وہ دونوں، مجھے لگا کہ کوئی اور دوستوں کو بھی آپ نے بتایا ہے۔ کیا آپ آج رات کی بات بھی ان کو بتائیں گے؟"

میں نے دیکھا کہ اب سب ٹھیک ہے، سو سچ کہ دیا "ضرور، وہ ضرور پوچھیں گے، اور تب میں بتا دوں گا! "

اور میں نے نوشین کو پاس کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کے ہونٹوں کا رس پینے لگا۔

نوشین بھی مزے کر رہی تھی، ہم لوگ کوئی 5 منٹ تک صرف ہونٹ ہی چوستے رہے۔ نوشین کی سانس تھوڑی گہری ہو گئی تھی۔

میں نے نوشین کو کہا، "چلو اب بیڈ پر چلتے ہیں۔ " اس نے ایک بچے کی طرح مچلتے ہوئے کہا، "میں خود نہیں جاؤں گی، گودی میں لے چلو مجھے۔ میں تم سے چھوٹی ہوں یا نہیں۔ "

اسے بچوں کی طرح مچلتے دیکھ مجھے مزا آیا، بولا، "سالی، نخرا کر رہی ہے، چھوٹی ہے تو، ابھی دو منٹ میں جوانی چڑھ جائے گی! " اور اس کو میں نے گودی میں اٹھا لیا۔

وہ میرے سینے سے لگ گئی اور بولی، "ایسے کبھی گودی لیتے کیا آپ، اگر میں نہ کہتی! "

میں نے جواب دیا، "ارے تیرے جیسی مست لونڈیا اگر بولے تو اپنے سر پہ بٹھا کے لے جاؤں اسے! "

میں نے اس کو اپنے بیڈ پہ لا کر پٹخ دیا۔ مجھے پیشاب آ رہا تھا، تو باتھ روم جاتے ہوئے میں نے کہا، "اب اتار اپنے کپڑے، اور ننگی ہو جا، جب تک میں آتا ہوں"۔

میں جب لوٹا تب بھی نوشین اپنے پورے کپڑوں میں بیڈ پر دکھی۔ میں تھوڑا چڑ گیا اس بات پر۔ میں بولا "کیا سالی نخرے کر رہی ہے، میرا لنڈ کھڑا کر کے۔ میرے سے کپڑے اتروانے ہیں تو آ ذرا لنڈ چوس میرا۔ "

وہ بھی تھوڑا تنک کر بولی، "اچھا، تو اب میں آپ کی سالی ہو گئی۔ آپ دو بار مجھے سالی بول چکے ہیں!"

پھر مسکرانے لگی۔

میں نے ہنستے ہوئے کہا، "تو کیا تم مجھے بہن چود بنانا چاہتی ہو؟"

اس بار وہ سیکسی انداز میں بولی، "آپ مجھے رنڈی بنا رہے ہو تو کوئی بات نہیں اور میں آپ کو بہن چود بھی نا بناؤں ؟"

اور وہ میرے سے چپک گئی۔ میں نے اس سے نظر ملا کے کہا، "میں تو تمہیں اپنی رانی بنا رہا ہوں جان، رنڈی نہیں۔ پر تمہارے لیے بہن چود، کیا تو جو بول وہی بن جاؤں گا میری پیاری نوشین۔ "

میں پھر اس کے ہونٹ، گال چومنے لگا۔ وہ ساتھ دیتے ہوئے بولی، "تھینکس ندیم بھائی، پر مجھے تو رنڈی بننا پڑے گا اب۔ آپ کے دونوں دوست مجھے زیادہ دن چھوڑیں گے ہی نہیں! "

میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی، "یہ بات تو ہے، نوشین، پر کوئی بات نہیں ایک دو بار سے زیادہ وہ لوگ نہیں کریں گے۔ میں جانتا ہوں ان کو! "

نوشین تھوڑا گرم ہونے لگی تھی، بولی، "اب چھوڑو یہ سب بات اور چلو شروع کرو ندیم بھائی! "

مجھے یہ سن کر مزا آیا، "کیا شروع کرے تمہارا ندیم بھائی، ذرا ٹھیک سے تو کہو میری چھوٹی بہنا۔ "

میرا ہاتھ اب اس کی داہنی چونچی کو کپڑے کے اوپر سے ہی مسل رہا تھا۔ ایک بار پھر میں نے پوچھا، "بول نا میری بہنا، کیا شروع کرے تمہارا بھیا! بات کرتے ہوئے زیادہ مزا آے گا میری جان۔ اس لیے بات کرتی رہو، جتنی گندا باتیں بولوگی، تمہاری چوت اتنا زیادہ پانی چھوڑے گی۔ اب جلدی بولو بہن، کیا شروع کروں میں؟"

اس کی آنکھیں بند تھی، بولی "میری چدائی"

چدائی یا تیری چوت کی چدائی؟

"میری چوت کی چدائی"، وہ بولی۔

میرے دونوں ہاتھ اب اس کے چوتڑوں پر تھے، میں ہلکے ہلکے انہیں دبا رہا تھا۔

پھر میں نے اس کو بیڈ پر بٹھا دیا، اور اس کی کرتی دھیرے دھیرے سر کے اوپر سے اتار دی۔ اس کے بعد میں نے اس کی شلوار کھول دی۔ اب نوشین میرے سامنے ایک سفید برا اور کالی پینٹی میں تھی۔

میں نے کہا، "اب ٹھیک ہے، آؤ لنڈ چوس کر ایک دفعہ منی نکال دو! "

نوشین اب مذاق کے موڈ میں تھی، اپنی گول گول آنکھیں نچاتے ہوئے بولی، "کس کا لنڈ چوسوں، مجھے تو کوئی لنڈ دکھ نہیں رہا۔ "

مجھے اس کی یہ ادا بھا گئی، میں نے گندے تریکے سے کہا، "اپنے پیارے بھیا کا لنڈ نکالو اور پھر اس کو منہ سے چوسو، میری رنڈی بہنا! اپنے بھیا کو سیاں بنا کے چدواؤ اپنی چوت اور پھر اپنی گانڈ بھی مرواؤ! "

میں سیدھا لیٹ گیا۔ نوشین نے میرا لنڈ چوسنا شروع کر دیا۔ میں نے اس کو لنڈ سے کھیلنا سکھایا اور وہ جلدی ہی سمجھ گئی اور مجھے مزے دینے شروع کر دیے۔ کوئی 10 منٹ چسانے کے بعد میرا لنڈ جب جھڑنے والا تھا، میں نے نوشین کو کہا کہ وہ تیار رہے اور پھر میں اس کے منہ میں جھڑ گیا۔ میرے کہنے سے اس نے میرا سارا ویرے پی لیا۔

اب میں نے اس کی برا اور پینٹی کھول دی۔ کالی کالی جھانٹوں سے بھری ہوئی اس کی چوت کا ایک بار پھر درشن کر میں نہال ہو گیا۔ جیسے ہی میرے ہاتھ نوشین کی چوت کی طرف گئے، وہ بولی، "بھیا، کچھ ہوگا تو نہیں۔ ڈر لگ رہا ہے، کہیں بدنامی نا ہو جائے۔ "

میں نے سمجھاتے ہوئے کہا، "کچھ نہیں ہوگا۔ آج تک جب تمہاری بدنامی نہیں ہوئی تو اب کیو ڈر رہی ہو؟"

اس کا جواب سن کے میری خوشی کا ٹھکانا نہیں رہا۔ وہ بولی تھی، "آج پہلی بار کرواؤں گی، اسی لیے ڈر رہی ہوں۔ "

میں بولا "کیا، کیا تم کنواری ہو اب تک؟" اس کے ہاں کہنے پر مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے بول ہی دیا، "مجھے یقین نہیں ہو رہا۔ ایک کنواری لڑکی ہوتے ہوئے تم اس دن تین تین جوان لڑکوں کے سامنے ننگی ہو کر کھیل رہی تھی؟"

وہ ہنستے ہوئے بولی، "اس میں یقین نہ کرنے والی بات کیا ہے؟ آپ تینوں مجھ پر لائن مار رہے تھے کئی دن سے، سو اس دن میں بھی سوچا کہ چلو آج لائن دے دیتی ہوں، بس۔ آپ لوگ کو مزا آیا تو مجھے بھی تو مزا آیا۔ "

میں ہنس دیا، "بہت کتی چیز ہے تو بہنا۔ چل لیٹ، ذرا تیری چوت تو دیکھوں، کتنی کنواری کلی ہے تو! "

اور میں نے اس کی چوت کی پھانکیں کھول کے اندر کی گلابی جھلی کو دیکھا۔ سالی سچ میں ابھی تک کنواری تھی۔ سانولے بدن کی نوشین کی چوت تھوڑی سانولی تھی، جس کی وجہ سے اس کی چوت کا پھول کچھ زیادہ ہی گلابی دکھ رہا تھا۔ قریب 10 منٹ تک اس کی چونچی اور چوت کو چومنے چاٹنے کے بعد میں نے اس کی ٹانگوں کو چوڑا کر کے اس کی چوت کو کھول دیا اور خود بیچ میں بیٹھ کے لنڈ کو نوشین کی چوت کی پھانک پر سیٹ کر لیا۔ مزے سے نوشین کی آنکھ بند تھی۔ وہ اب صرف آہ آہ آہ سی سی سی جیسا کر رہی تھی۔

میں نے نوشین سے پوچھا، "تیار ہو نوشین رانی چدوانے کے لیے؟ میرا لنڈ تمہاری چوت کو چما لے رہا ہے۔ کہو تو پیل دوں اندر اور پھاڑ دوں تمہاری چوت کی جھلی؟ بنا دوں تمہیں لڑکی سے عورت؟ کر دوں تمہارے کنوارپن کا خاتمہ؟ بولو جان، بولو میری رانی، بول میری بہنا، چدوائے گی اپنے بھیا کے لنڈ سے اپنی چوت؟"

اب اس سے رہا نہیں جا رہا تھا، وہ بول پڑی، "ہاں میرے بھیا، چود دو میری چوت اپنے لنڈ سے۔ بنا دو مجھے عورت۔ اب مجھے کنواری نہیں رہنا۔ "

میں اپنا لنڈ پیلنے لگا وہ تھوڑا کسمسائی، شاید اس کو درد ہو رہا تھا۔ پر میں نہیں رکا، اس کی گیلی چوت میں لنڈ گھسیڑتا چلا گیا۔ نوشین تڑپ اتھی اور بلک بلک کر رونے لگی۔ وہ روتے روتے ثیخ رہی تھی "بس بس اب بس کریں ندیم بھائی۔۔۔ آہ ہ ہ ہ پلیز اب اور نہیں کریں اوہ ہ ہ ہ ہ ہ میں مر جاؤں گی مجھے چھوڑ دیں۔۔۔ اوہ ہ ہ ہ امی میں مری۔۔۔ کوئی مجھے بچائے ہائے ے ے ے ے ۔۔۔ بھیااااااا بس س س س س آہ ہ ہ ہ ہ

مگر میں نے اس کی چیخوں اور اور سسیکوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے بند کر دیا۔ اب اس کی چیخیں اوغ اوغ کی گھٹی گھٹی آوازوں میں بدل گئی تھیں۔ میں دھکے مارتا چلا گیا۔

آخر کار اس کا درد کم ہوا اور وہ مزے میں ڈوب کر بڑبڑانے لگی "ندیم بھائی! کر دو میرے کنوارپن کا خاتمہ آج۔ میری چوت کو جوانی کا مزا دو میرے بھیا، لوٹ لو میری جوانی کو اور چود کر بنا دو مجھے رنڈی۔ چودو مجھے بھیا، خوب چودو مجھے۔ میری جوانی کا رس لوٹو ندیم بھائی۔ "

میں جوش میں چودتا جا رہا تھا۔ ہم دونوں ساتھ ساتھ بولتے جا رہے تھے۔ میں بول رہا تھا، "چد سالی چد۔ اب پھٹ گئی تیری چوت کی جھلی۔ گیا تیرا کنوارپن۔ لوٹو مزا اپنی جوانی کا۔ سالی ابھی تھوڑی دیر پہلے بچی بنی ہوئی تھی۔ گودی میں گھوم رہی تھی۔ اب اسی چوت سے بچے پیدا کرے گی تو میری بہنا۔ میں تمہیں چود کر بچے پیدا کروں گا۔ چدو سالی چدو، خوب چدوا۔ "

نوشین بھی بڑبڑا رہی تھی، "ابھی بچا نہیں۔ ابھی مجھے اپنے چوت کا مزا لوٹنا ہے۔ خوب چدواؤں گی۔ جوانی کا مزا لوٹوں گی۔ پھر بچے پیدا کروں گی۔ آآہہ چودو اور چودو مجھے۔ رنڈی بنا کے چودو۔ بیوی بنا کے چودو۔ سالی بنا کے چودو۔ بہن بنا کے چودو، نہیں بہن تو ہوں ہی۔ اور آپ بہن چود ہو۔ ندیم بھائی، بہن چود بھیا، چودو اپنی چھوٹی بہن کو۔ " میں نے اب اس کو پلٹ دیا اور پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ پیل دیا اور ایک بار پھر چدائی چالو ہو گئی۔ اب ووہ تھک کر نڈھال ہو گئی تھی، میں نے 8 ۔ 10 زور کے دھکے لگائے اور پھر میں بھی چھوٹ گیا۔ میں نے اپنا لنڈ باہر نکال لیا تھا، میرا سارا مال اس کے مموں پر پھیل گیا۔

نوشین میرے نیچے پیٹ کے بل بیڈ پہ تھی اور میں اس کے اوپر تھا۔ میرا لنڈ اس کے گانڈ کی دراڑ پر چپکا ہوا تھا۔ ہم دونوں زور زور سے ہانپ رہے تھے، جیسے میراتھن دوڑ کر آئے ہوں۔

تبھی گھڑی نے 11 بجے کا گھنٹا بجایا۔

میں نے نوشین سے کہا، "اب گانڈ مروانے کو تیار ہو جاؤ"

ووہ ہانپتے ہوئے بولی، "نہیں بھائی! اب اور کچھ نہیں، بس سونا ہے۔۔۔ کل مار لیجیے گا گانڈ بھی"

اور اس نے کروٹ بدل لی۔ میں بھی اس کے ننگے بدن کے ساتھ چپک ننگا ہی سو گیا۔

اگلے روز میں نے نوشین کی گانڈ بھی ماری اور اس کے بعد اسے سلیم اور انور سے بھی چدوانا پڑا۔ لیکن یہ سب اگلی بار۔۔۔

اگر اسلام آباد یا راولپنڈی کی کسی لڑکی یا عورت کو سیکس کی خواہش ہو تو بلا جھجک مجھ سے میرے ای میل پر رابطہ کر سکتی ہے۔ مکمل رازداری کی ضمانت دیتا ہوں

SAALI KI CHUDAI

یہ کہانی جو میں آپ لوگوں کو سنانے جا رہا ہوں یہ میری اور میری سالی کی ہے۔میری شادی میری پسند سے ہوئی تھی۔ میری بیوی ایک خوبصورت ترین اور سیکی عورت ہے۔ اور میری سالی بھی کسی سیکس کی پڑیا سے کم نہیں تھی۔ میری شادی کو تین سال ہو چکے تھے میری بے تکلفی میری سالی کے ساتھ کافی زیادہ تھی۔ میرا سسرال پٹھان فیملی سے تعلق رکھتا ہے انکے خاندان کی ساری لڑکیاں ایکدم سرخ سفید ہیں۔ اور بہت ہی خوبصورت اور سیکسی۔

میری سالی کی عمر اس وقت بیس سال تھی جبکہ میری بیوی بائیس سال کی تھی اور میری اپنی عمر اٹھائیس سال تھی۔ میں اس وقت ایک کمپنی میں بہت اچھی جاب پر تھا میرا ٹرانسفر کمپنی نے ایک دوسرے شہر کردیا تھا جہاں نہ تو میرے گھر والے تھے اور نہ ہی میرے سسرال والے یہ دونوں ایک ہی شہر میں رہتے تھے۔ میں اپنی بیوی کو لے کر اس گھر میں شفٹ ہو گیا تھا۔ میری بیوی کا نام حمیرا تھا جبکہ میری سالی کا نام سمیرا تھا۔ ایک دن میری بیوی نے مجھے بتایا کہ وہ سمیرا کو یہاں بلوا رہی ہے وہاں گھر میں کچھ پرابلم ہے اور سمیرا کافی ڈسٹرب ہے۔ میں نے اسکو بخوشی اجازت دے دی اس میں منع کرنے والی کوئی بات تھی بھی نہیں کیونکہ سمیرا کو نزدیک رکھنا تو میری دلی خواہش تھی میں اسکے ساتھ سیکس تو نہیں کر سکتا تھا مگر اسکو اپنے قریب تو رکھ سکتا تھا حالانکہ میرے دل میں اسکے ساتھ سیکس کرنے کی شدید خواہش تھی۔ وہ ایک ایسی لڑکی تھی جس میں سیکس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ کس پاگل کا دل نہیں چاہے گا اسکے ساتھ سیکس کرنے کا۔ میں بھی تو آخر مرد تھا ایک روٹی سے پیٹ کہاں بھرتا ہے۔
خیر کچھ دن بعد سمیرا ہمارے گھر آگئی اسکے چہرے کی اداسی سے مجھے کچھ اندازہ تو نہ ہوا مگر یہ سمجھ آگیا کہ واقعی کچھ گڑبڑ ہے۔ خیر سمیرا آگئی۔ اب اسے کچھ دن یہاں رہنا تھا۔ وہ مجھ سے بھی زیادہ بات چیت نہیں کر رہی تھی۔
میں آپ کو یہ بتابا بھول گیا کہ میری بیوی اپنا وقت گذارنے کے لیے ایک اسکول میں پڑھا رہی تھی۔ سارا دن وہ اکیلی ہوتی تھی تو اس نے ایک اسکول میں جاب اسٹارٹ کردی وہ دن میں واپس گھر آجاتی تھی۔ خیر سمیرا کو رہتے ایک ہفتہ ہوگیا تھا میں اور میری بیوی اسکو تقریباً روزانہ ہی باہر لے جاتے تھے اور رات کو دیر سے واپس آتے تھے تاکہ سمیرا کا دل بہل جائے۔ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا تھا کہ وجہ کیا ہے جو سمیرا اتنی اداس اور اپ سیٹ ہے تو میری بیوی نے بتایا کہ ابو اسکی شادی اسکی مرضی کے خلاف کرنا چاہتے ہیں وہ کسی اور لڑکے میں دلچپسی رکھتی ہے جبکہ والد اسکے خلاف اپنے دوست کے بیٹے سے اسکی شادی کرنا چاہتے ہیں اور اس کے نہ ماننے پر اسکے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں۔ میں یہ سن کر سوچ میں پڑگیا کہ اب کیا کیا جائے سمیرا تو کسی اور میں دلچسپی رکھتی ہے وہ تو کبھی بھی ہاتھ نہیں رکھنے دے گی۔ اور اگر اس نے شور مچا دیا تو میری تو زندگی تباہ ہو جائے گی۔

مگر ایک رات اچانک میرے اندازے غلط ثابت ہوگئے۔ میری بیوی اس رات مزے سے میرے ساتھ بھرپور سیکس کرنے کے بعد سو رہی تھی۔ مجھے پیاس محسوس ہوئی تو میں اٹھا اور فریج سے پانی نکالنے لگا تو معلوم ہوا کہ کمرے میں رکھے فریج میں ایک بھی بوتل ٹھنڈے پانی کی نہیں ہے تو میں نے کمرے سے باہر جا کر کچن کے فریج سے پانی پینا چاہا۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کچن کے سامنے ٹیلی فون کا اسٹینڈ تھا جہاں سمیرا کھڑی کسی سے فون پر باتیں کر رہی تھی اس نے مجھے نہیں دیکھا تھا میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا کسی نہ کسی چیز کی آڑ لیتا ہوا سمیرا کے نزدیک پہنچ گیا میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سمیرا نے اپنا ایک ہاتھ اپنی شلوار میں ڈالا ہوا تھااور یقیناً وہ اپنی چوت کو مسل رہی تھی بلکہ وہ ان ہدایات ہر عمل پیرا تھی جو اسے فون پر مل رہی تھیں شاید وہ اپنے بوائے فرینڈ سے باتیں کر رہی تھی اور انکے تعلقات کافی زیادہ تھے جو کہ شاید سیکس تک جا پہنچے تھے سمیرا اس سے باتوں میں بھی اپنی چاہت اور سیکس کی طلب کا اظہار کر رہی تھی۔ اور وہ لڑکا شاید اسکو گائیڈ کر رہا تھا کہ کس طرح وہ اس وقت اپنی پیاس بجھا سکتی ہے سو وہ ایسا ہی کر رہی تھی۔

یہ سب دیکھ کر مجھے حیرت کا جھٹکا تو لگا مگر میری خوشی کی انتہا بھی نہ رہی کیونکہ میں اب سمیرا پر ہاتھ ڈال سکتا تھا اب تک میں یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ سیل پیک ہوگی اور اس لڑکے کے علاوہ کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دے گی۔ مگر انکے تعلقات کا اندازہ کر کے میں نے یہ اندازہ لگا لیا کہ اب سمیرا پر ہاتھ ڈالنا مشکل نہیں ہے۔اگر اس نے شور بھی مچایا تو میں اسکو اس فوں پر ہونے والی بات چیت اور اسکی حرکتوں کو بتا کر بلیک میل کرسکتا ہوں۔ اب میرے ہاتھ میں سمیرا کی کمزوری آگئی تھی۔خیر یہ سب دیکھ کر مین پانی پیئے بغیر واپس آگیا۔ اور اسکے بعد مجھے نیند نہیں آئی میں پوری رات سوچتا رہا اور منصوبہ بناتا رہا کہ کسی طرح سمیرا پرہاتھ رکھا جائے کہ وہ آرام سے میری بانہوں میں آجائے۔ خیراسی سوچ بچار میں صبح ہوگئی اور میرے آفس جانے کا وقت ہوگیا ۔ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ سمیرا ابھی تک سو رہی ہے ناشتہ نہیں کرے گی وہ ۔ اس نے جواب دیا ہاں پتہ نہیں ابھی تک سو رہی ہے شاید طبیعت ٹھیک نہ ہو میں دیکھ لونگی آپ ناشتہ کر کے آفس جائیں مجھے بھی دیر ہو رہی ہے اسکول سے ۔ میں اسکی بات سن کر ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگیا اور تھوڑی دیر بعد آفس کے لیے روانہ ہوگیا۔ آفس میں بھی سارا دن میں منصوبے ہی بناتا رہا پھر شام کو واپس آیا تو میری بیوی میرے لیے ایک خوشخبری لے کر بیٹھی تھی۔ اس نے بتایا کہ اسکول میں ایک سیمینار ہو رہا ہے اسکو دو دن کے لیے ہیڈ کوارٹر طلب کیا گیا ہے جو کہ دوسرے شہر میں تھا، میں نے اس سے کہا ٹھیک ہے میں آفس میں چھٹیوں کے لیے اپلائی کر دیتا ہوں پھر ساتھ چلیں گے۔ اس نے جواب دیا نہیں مجھے اکیلے ہی جانا ہوگا کسی کے ساتھ نہیں جاسکتی کیونکہ اسکول کی اور بھی ٹیچرز ہیں جو جارہی ہیں سارا انتظام اسکول کررہا ہے ہماری رہائش اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کا۔ یہ سن کر تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا پھر میں نے کہا میں کیا گھر میں اکیلا رہونگا اس نے جواب دیا سمیراہے نہ آپکے ساتھ اور پھر میں دو دن میں واپس آجاؤنگی۔ میں نے اداس ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے اس کو اجازت دے دی۔ پھر ہم لوگوں نے کھانا کھایا اور سونے کی تیاری کرنے لگے میں نے اپنی بیوی کو اپنے اعتماد میں رکھنے کے لیے اس سے پوری رات بھرپور پیار کیا اور اسکو سیکس کا ہر ممکن مزہ دیا۔ وہ صبح جب اٹھی تو بڑی خوش تھی کہ اسکو اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا ہے جو اسکی دو دن کی جدائی بھی برداشت نہیں کرسکتا۔

خیر میری بیوی فٹافٹ تیار ہو کر اپنے اسکول چلی گئ اب اسکو تیسرے دن واپس آنا تھا۔ اب گھر میں میں اورسمیرا تھے، مجھے بھی اب آفس جانا تھا سو میں بھی تیار ہو کر نہ چاہتے ہوئے بھی آفس چلا گیا۔ خیر میں پلان کر چکا تھا کہ آج کی رات کچھ نہ کچھ کرنا ہے۔ آفس میں اپنا پلان ترتیب دیا اور اس پر عمل کرنے کا سوچ لیا۔

میں آفس سے واپس شام میں گھر آیا تو سمیرا کے اندر کچھ بے چینی محسوس کی ۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہو مگر کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی خیر میں اس کو نظر انداز کرتا رہا۔ پھر اسی طرح وقت گذرا اور رات کے کھانے کا وقت ہوگیا سمیرا نے بہت اچھا کھانا بنایا تھا میں کھانے کے دوران اسکے کھانے کی تعریف کرتا رہا اور وہ شکریہ ادا کرکے خاموشی سے کھانے میں مصروف رہی۔خیر کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر سمیرا تو برتن دھونے چلی گئی اور میں چپ چاپ اپنے کمرے میں چلا گیا جیسے مجھے سونا ہو مگر میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا سمیرا سے کس طرح بات شروع کروں ابھی سوچتے کچھ دیر ہی گذری تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی میں نے بولا آجاؤ سمیرا اندر آگئی میں نے کہا کیا ہوا ٹھیک تو ہو۔ وہ خاموشی سے میرے سامنے بیٹھ گئی اور کچھ نہ بولی میں نے اس سے پوچھا کیا ہوا سمیرا بتاؤ کیا بات ہے۔ تم پریشان کیوں لگ رہی ہو مجھے۔ پھر وہ بلک بلک کر ایکدم سے رونا شروع ہوگئی میں اٹھا اور اسکے نزدیک گیا اور اسکو تسلی دینے لگا کچھ دیر رونے کے بعد وہ چپ ہوئی تو پھر اپنی کہانی سنانا شروع کردی۔اس نے بتایا کہ وہ کسی لڑکے سے محبت کرتی ہے اور اس سے ملی بھی کئی دفعہ ہے اور اسکے سوا کسی اور سے شادی نہیں کرنا چاہتی ہے۔ اور اسکو میری مدد کی ضرورت ہے میں نے ایکدم اس سے ایک ایسا سوال کردیا جسکو سن کر وہ اچھل پڑی میں نے اس سے پوچھا تم نے اس لڑکے کے ساتھ سیکس کیا ہے۔ وہ یہ سوال سن کر حیرت سے مجھے دیکھنے لگی پھر اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور اس نے کوئی جواب نہیں دیا پھر سر جھکا کر آہستہ سے بولی نہیں ایسا کچھ نہیں کیا میں نے ۔ پھر میں نے کہا کچھ تو ایسا ضرور ہے جو تم کو اتنی طلب ہے اسکی۔ ورنہ ایسا نہیں ہوتا۔ اب سمیرا لاجواب تھی اسکی چوری پکڑی جارہی تھی۔ پھر وہ بولی ہم لوگ ملے ضرور ہیں مگر کوئی غلط کام نہیں کیا ہم نے۔ پھر میں اسکو باتوں میں لگاتا رہا اور آخر کار میں نے اگلوالیا کہ ان دونوں نے کسنگ بھی کی ہے اور ایک دوسرے کو ننگا تک دیکھا ہے مگر سیکس نہیں کیا۔ سو اب باری میری تھی اپنا پتہ چلنے کی۔
میں نے پوچھا تمہیں بہت طلب ہے اسکی؟
جی! سمیرا نے جواب دیا
اگر میں تمہاری یہ طلب پوری کردوں تو؟
وہ میری بات سن کر اچھلی ایسے جیسے کسی سانپ کو دیکھا ہو۔ اور حیران نظروں سے میری جانب دیکھنے لگی، پھر میں نے اسکو باتوں میں لگایااور یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ دیکھو تم بھی جوان ہو اور میں بھی مجھے بھی سیکس کی ضرورت ہے اور تمہیں بھی تم اسکے بغیر نہیں رہ سکتی میں اپنی بیوی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آج کی رات ہم دونوں اپنی ضرورت پوری کرسکتے ہیں اگر تم چاہو اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے مجھے دیکھتی رہی اور کچھ نہ بولی۔ پھر میں نے دوبارہ اس سے یہ ہی سوال کیا مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا مگر سر جھکا کر بیٹھی رہی۔

میں اسکے پاس سے اٹھا اور کہا تم اپنے کمرے میں جاؤ اور سوچو پھر اگر تم راضی ہو تو آجانا واپس نہیں تو سمجھ لینا ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔۔ یہ کہہ کر میں اپنے بیڈ پر بیٹھ گیا وہ بھی خاموشی سے اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ جو پتہ چلا ہے وہ سر ہوگا کہ نہیں۔ ایسا تو نہیں کہ یہ رات خالی جائے گی۔لیکن تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہی میرے دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی میں خوشی سے اچھل پڑا اور جاکر دروازہ کھولا تو دروازے پر سمیرا سر جھکائے کھڑی تھی۔میں سمیرا کو دیکھ کر خوشی سے دیوانہ ہو رہا تھا۔ میں نے سمیرا کا ہاتھ پکڑا اور اسکو اپنی جانب کھینچ کر اپنے ساتھ لپٹا لیا اور مظبوطی سے جکڑ لیا سمیرا بھی مجھے اپنی انہوں میں جکڑ چکی تھی اسکا نرم اور گداز جسم محسوس کرتے ہی میرے لنڈ میں حرکت شروع ہوگئی۔ میں نے سمیرا کو اپنے ساتھ لپٹائے لپٹائے اندر کھینچ لیا اور روم کا دروازہ بند کردیا۔ پھر میں نے اسکو خود سے الگ کیااور اسکی جاب دیکھا تو ابھی تک نظریں نیچے کیئے ہوئے تھی میں نے دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرہ پکڑ کر اسکے ہونٹوں پر ایک بھرپور کس کیا۔ وہ بھی میرے کس کا جواب دینے لگی پھر میں نے دونوں ہاتھ پیچھے لے جاکر اسکے کولہے اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر زور سے دبائے جس سے اس نے ایک لمبی سانس لی اور اچھل کر مزید میرے ساتھ چپک گئی پھر میں نے ذرا دیر اسکے کولہوں کا مساج کرنے کے بعد اسکی شرٹ میں پچھے سے ہی ہاتھ ڈالا اور اسکی ننگی کمر کو سہلانے لگا۔ وہ اب مست ہونے لگی تھی اسکی سانسیں تیز ہونے لگی تھیں۔میں اب واپس ہاتھ نیچے کی طرف لایا اور یہ جان کر میری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ سمیرا نے شلوار میں الاسٹک ڈالی ہوئی تھی میں نے دونوں ہاتھ اسکی شلوار میں ڈال دیئے اور اسکے کولہوں کو جکڑ کر ایک بار پھر سے بھرپور طریقے سے سہلانے لگا۔ وہ اب بری طرح مچل رہی تھی کہ میں کسی طرح اسکو چھوڑ دوں شاید اسکی بے تابی بڑھ رہی تھی۔ خیر میں اسکو کیا چھوڑتا میں نے ایک ہی جھٹکے سے اسکی شلوار کو گھٹنوں تک کھینچ کر اتار دیا۔ اب وہ نیچے نیچے تو ننگی ہو گئی تھی اسکی گوری رانیں دیکھ کر میرا دل مچل اٹھا تھا۔ اور اب میری برداشت سے بھی باہر ہو رہا تھا کہ اسکو چودے بغیر سکون نہیں ملنا تھا مجھے۔ اب میں اسکے ممے دیکھنا چاہتا تھا سو اب میں نے اسکی قمیض پر حملہ کیا اور چیک کیا تو پتہ چلا کہ اس نے ایک زپ والی قمیض پہنی تھی میں نے اس زپ کو ایکدم نیچے کیا تو کافی چست ہونے کی وجہ سے ایکدم ہی نیچے ڈھلک گئی۔ اور اسکے شانے ننگے ہو گئے جس پر پتلی سی بریزی کی اسٹرپ جو کہ بلیک کلر کی تھی اسکے گورے بدن پر قیامت ڈھا رہی تھی۔اب میں مزید انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا اسکی چوت کو اپنے موٹے لنڈ سے بھرنا تھا مجھے۔ اسکی چوت کی گرمی اور نرمی سے اپنے لنڈ کو فیضیاب کرنا تھا۔ سو میں نے اس سے کہا سمیرا اب مزید انتظار نہیں ہوتا اس نے پہلی بار میری بات کا جواب دیا مجھ سے بھی اب انتظار نہیں ہو رہا جلدی کریں۔ میں اسکی بات سن کر خوشی سے پاگل ہونے لگا تھا۔ میں نے فٹافٹ اسکی قمیض کو اسکے خوبصورت بدن سے الگ کیا۔ اور پھر اسکے بریزر کے ہک کھول کر اسکے بڑے بڑے ممے کو آزاد کردیا وہ ایسے اچھل کر میرے منہ کے سامنے آئے جیسے پکا ہوا آم ہو ایکدم گورے اور چکنے ممے۔۔۔۔۔۔۔۔ واہ میں تو خوشی سے دیوانہ ہورہا تھا میری رال ٹپکنے کو تھی۔ پھر میں نے اسکی شلوار جو ابھی تک گھٹنوں تک تھی اسے بھی اتار اب وہ میرے سامنے بالکل ننگی کھڑی تھی۔ اسکا گورا اور سیکسی بدن مجھے بھرپور دعوت دے رہا تھا۔ اب میری باری تھی اپنے کپڑے اتارنے کی میں نے جلدی جلدی اپنا نائٹ سوٹ اتارا مگر انڈروئیر کو چھوڑ دیا سمیرا کے لیے۔اب میں نے سمیرا کی جانب دیکھا تو وہ سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھ رہی تھی میں اسکو دیکھ کر مسکرایا اور کہا تمہارے سارے کپڑے میں نے اتارے ہیں میرا ایک کپڑا تو کم سے کم تم بھی اتارو۔وہ میری بات سن کر شرمائی مگر پھر اگلے ہی لمحے وہ آگئے بڑھی اور میری انڈرویئر میں ہاتھ ڈال کر میرا لنڈ پکڑ لیا۔ میں ایسے اچھلا جیسے میرے لنڈ کو کرنٹ لگا ہو۔ مگر اسکے نرم ملائم ہاتھ سے میرے لنڈ کو بہت لذت ملی تھی۔ اب سمیرا نے ایک ہاتھ میں میرا لنڈ پکڑے رکھا اور دوسرے ہاتھ سے میری انڈروئیر اتار دی اب جو اس نے میرا لنڈ دیکھا جو کہ تنا ہوا کسی ڈنڈے کی مانند اسکے ہاتھ میں تھا تو اسکی آنکھوں میں چمک آگئی جس سے اندازہ ہوا مجھے کہ اسکو کافی کچھ معلوم ہے سیکس کے بارے میں لہذا میں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس ایک ممے کو اپنے منہ میں لے لیا اور کسی آم کی طرح چوسنے لگا اور دوسرا ہاتھ اسکے دوسرے ممے پر تھا جس کو میں زبردست مساج کر رہا تھا۔ اور وہ میرے لنڈ کو زور زور سے سہلا رہی تھی جس سے میرا لنڈ مزید سخت ہو گیا اور تن گیا۔ اب میں نے سمیرا کو اپنی گود میں اٹھایااور اس کو اپنے بیڈ پر پھینک دیا۔ اسکے بیڈ پر گرنے سے اسکے مموں نے ایک زبردست باؤنس لیا جس سے انکی نرمی اور لچک کا اندازہ ہو رہا تھا خیر اب تو یہ سوئٹ ڈش میرے کھانے کے لیے موجود تھی اور کوئی دعویدار بھی نہیں تھا جو روک سکتا۔ میں بھی جمپ کر کے سمیرا کے اوپر گرا مگر اس طرح کی سمیرا کو میرے بدن سے چوٹ نہ لگے۔ اب میں نے سمیرا کی چوت کی خبر لی اور ایک انگلی سے اسکو سہلانے لگا میں نے محسوس کیا کہ سمیرا کی چوت بالکل گیلی ہو رہی تھی ۔ میں نے ٹشو پیپر کا بکس اٹھا کر اسکی چوت کو صاف کیا اور اسکا گیلا پن بالکل ختم کردیا اسکے بعد میں نے دوبارہ سے اسکی چوت کو سہلانا شروع کردیا پھر ذرا دیر بعد اسکی چوت گیلی ہوگئی۔ ایک بار پھر میں نے اسکو ٹشو پیپر سے صاف کر کے خشک کردیا اب میں نے سمیرا سے کہا میرا لنڈ چوسو جس سے اس نے انکار کر دیا۔ میں نے کہا اگر نہیں چوسو گی تو مجھے مزہ نہیں ملے گا ۔ میری بات سن کر وہ تیار ہوگئی اور اٹھ کر بیٹھی اور مجھے دھکا دے کر بیڈ پر گرا دیا اور فوراً ہی میرا لنڈ اپنے منہ میں لے کر کسی لولی پاپ کی طرح چوسنے لگی۔اف اب میں الفاظ میں کس طرح بیان کروں اسکا منہ کتنا گرم اور کتنا نرم تھا میں اگر شادی شدہ نہ ہوتا اور سیکس کا تھوڑا تجربہ نہ ہوتا تو لازمی میں اسکے منہ ہی فارغ ہو جاتا ۔ مگر میں نے بڑی مشکل سے برداشت کیا مجھے آخر اسکی چوت کے مزے لینے تھے۔ مگر وہ اتنا زبردست طریقے سے میرا لنڈ چوس رہی تھی کہ ہر لمحہ مجھے لگتا تھا کہ میں اسکے منہ ہی فارغ ہونے لگا ہوں پھر میں نے اسکو زبردستی ہٹا دیا اور اب میں نے اسکو دھکا دے کر بیڈ پر گرایااور اسکے اوپر چڑھ کر بیٹھا اور اسکی چوت کے منہ پر اپنا لنڈ رکھا اور اس سے کہا اپنی ٹانگیں کھولے اس نے فوراً ایسا ہی کیا اور اب اسکی چوت میرے لنڈ کو قبول کرنے کو تیار تھی کیونکہ میں نے اپنے لنڈ کا ہیڈ اسکی چوت پر رکھا تو اندازہ ہوگیا اندر کتنی گرمی ہے اور دوسری بات یہ کہ اسکی چوت ایک بار پھر سے گیلی ہوچکی تھی۔یہ سگنل تھا اس بات کا کہ اسکی چوت میرے لنڈ کو نگلنے کے لیے تیار ہے اب باقی کام میرا تھا ۔ اب میں نے اپنا لنڈ اسکی چوت کے منہ پر رکھا اور زور لگایا تو اسکی چوت کے گیلا ہونے کی وجہ سے میرا لنڈ ہیڈ تک تو چلا گیا اندر، مگر سمیرا درد سے بلبلا اٹھی اور کہنے لگی اسکو باہر نکال لیں بہت تکلیف ہو رہی ہے مگر میں اب رکنے والا نہیں تھا میں نے سمیرا سے کہہ دیا اب تم کچھ بھی کہو میں تم کو چودے بغیر نہیں رہوں گا۔ وہ میری بات سن کر مسکرا اٹھی جسکو میں نہیں سمجھ سکا پھر میں نے زور لگایا اور تھوڑا اور لنڈ اسکی چوت میں داخل کردیا۔ اب وہ درد سے اپنے ہونٹ بھینچ رہی تھی مگر کچھ کہہ نہیں رہی تھی شاید وہ بھی چانس ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں تھی۔ اب میں نے اور زور لگایا اور مزید کچھ اور جھٹکوں میں میرا پورا لنڈ اسکی چوت میں تھا مگر وہ مچل رہی تھی شاید اسکو تکلیف زیادہ تھی میں نے اسکے اوپر لیٹ کر اسکو اچھی طرح جکڑ لیا ایسے کہ وہ ہل بھی نہیں سکتی تھی۔ صرف ٹانگیں اور ہاتھ ہلا سکتی تھی۔ اب میں نے اسکے ہونٹوں پو کسنگ شروع کردی ذرا دیر بعد وہ اپنی تکلیف بھول چکی تھی کیونکہ اسکا دھیان کسنگ میں تھا پھر اور تھوڑی دیر بعد اسکی تکلیف ختم ہوچکی تھی ۔ اب اسکی چوت تیار تھی چدنے کے لیے بس اب مجھے اسٹارٹ ہونا تھا۔ میں نے بیٹھ کر اسکی دونوں ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور پوری طاقت سے زور لگا کر اپنا لنڈ مزید اسکے اندر ڈال دیاوہ ایک دم سے چیخ اٹھی شاید میں کچھ زیادہ ہی اندر چلا گیا تھا۔ مگر میں نے لنڈ کو باہر نکالا اور پھر اندر ڈالا مگر اب کی بار وہ نہیں چیخی بس اسکا سانس رکا اور پھر چل پڑا میں سمجھ گیا اب مزید وقت ضائع کرنا ٹھیک نہیں ڈش تیار تھی کھانے کے لیے اب چمچے چلا نے سے وقت ضائع ہونا تھا میں نے بھرپور رفتار کے ساتھ چدائی شروع کی سمیرا کی سیکسی آوازوں سے کمرہ گونج رہا تھا۔ اسکی آوازیں بڑی خوبصورت تھیں۔ میں بھی اب رکنے والا نہیں تھا تقریباً دس منٹ کی چدائی سے میں بھی تھکنے لگا تھا اور میری منی جو کافی دیر سے روکی ہوئی تھی اسکی چوت پینے کو تیار تھی۔ پھر میں نے اسکی چوت میں منی اگلنا شروع کی ۔ جیسے ہی اسے احساس ہوا کہ میری منی اسکی چوت میں جارہی ہے وہ چیخ اٹھی یہ کیا کیا تم نے میں تمہارے بچے کی ماں نہیں بننا چاہتی میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور لنڈ کو پورا اندر ڈال کر سمیرا کو جکڑ لیا میرا لنڈ اسکی چوت میں منی اگلتا رہا۔ پھر فارغ ہونے کے بعد میں نے بے تحاشہ اسکو پیار کیا مگر وہ مجھے سے ناراض لگ رہی تھی۔ میں اسکے پاس سے اٹھا اور الماری کھول کر ایک ٹیبلیٹ نکال کر اسکو دی اور کہا اسکو کھالو تم میرے بچے کی ماں نہیں بنو گی بے فکر رہو۔ یہ سن کر اسکا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ وہ ایکدم اٹھی اور وہ ٹیبلٹ مجھ سے لے کر منہ میں ڈال لی میں نے اسکو پانی کا گلاس دیا جس سے وہ ٹیبلٹ نگل گئی میں نے اس سے کہا چوبیس گھنٹے تک ہم کو سیکس کرنا ہے اس دوران تم ماں نہیں بنو گی پھر ایک اور ٹیبلیٹ کھالینا میری بات سن کر وہ مسکرائی اور اٹھ کر کھڑی ہوئی اور مجھے گلے سے لگا لیا۔ میں نے بھی اسکو بے تحاشا چومنا شروع کردیا۔ ذرا دیر بعد میں کمرے سے باہر نکلا اور کچن میں گیااور اسکے اور اپنے کھانے پینے کو جوس اور فروٹس لے آیا۔ ہم دونوں نے وہ کھائے اور پھر تھوڑی دیر لیٹ کر آرام کیااور اس دوران باتیں کرتے رہے۔ پھر میں نے دوسرا سیشن اسٹارٹ کیا اور سمیرا کو پھر ایک بار اسکے مموں پر اور پورے جسم پر کسنگ شروع کردی جس سے وہ پھر سے گرم ہونے لگی۔ اب کی بار میں اسکے ساتھ کچھ زیادہ کرنا چاہتا تھا۔ میں کسنگ کرتے کرتے اسکی چوت تک آیا تو وہاں انگلی ڈال کر اسکو چودنے لگا۔ اسکی چوت کافی گرم تھی۔ مطلب یہ تھا کہ وہ پوری طرح گرم ہوچکی ہے۔ اب میں نے اسکو الٹا کیا اور ڈریسنگ ٹیبل سے جلدی سے لوشن کی بوتل اٹھائی اور اسکے کولہوں پر مساج کرنا شروع کردیا وہ ابھی تک نہیں سمجھی تھی کہ کیا ہونے جارہا ہے پھر میں نے اپنے لنڈ پر بھی مساج کیا اور اسکے کولہوں کو لوشن سے تر کرتے ہوئے اسکی گانڈ پر بھی اچھی طرح سے لوشن لگا دیا۔ اب میرا لنڈ لوشن کے مساج سے ایک بار پھر کسی ڈنڈے کی مانند تنا ہوا تھا میں نے وقت ضائع کیئے بغیر اسکے کولہوں کے درمیان اپنے لنڈ کو رکھا اور ایک جھٹکا مارا تو وہ پھسلتا ہوا اسکی گانڈ کے سوراخ میں داخل ہوگیا۔ وہ ایک دم تکلیف سے چیخ پڑی اور کہنے لگی پلیز ادھر سے نہ کرو صرف آگے سے کرلو مگر میں کب سننے والا تھا۔ میں نے اس سے کہا جیسے ذرا دیر میں آگے سے تکلیف ختم ہوگئی تھی ایسے ہی یہاں سے بھی تکلیف ختم ہوجائے گی بس پھر انجوائے کرنا میری بات سن کر وہ خاموش ہوگئی میں نے لنڈ کو مزید دھکے مار مار کر اسکی گانڈ میں پورا لنڈ گھسیڑ دیا۔ وہ تکلیف سے بلبلا رہی تھی مگر آنے والی لذت کے انتظار میں تھی کہ کب تکلیف ختم ہو اور کب وہ لذت سے آشنا ہو۔ذرا دیر میں نے لنڈ کو اسکی گانڈ میں ہی رکھا ۔ ذرا دیر بعد میں نے پوچھا اب تکلیف تو نہیں تو اسکا جواب نہ میں تھا۔ میں یہ سن کر خوش ہوا پھر اس سے کہا چلو اب اٹھو اور جیسا میں کہوں ویسا کرو، یہ کہہ کر میں نے اسکی گانڈ سے لنڈ کو باہر نکالااور پھر بیڈ سے اتر کر کھڑا ہوگیا۔ پھر میں نے اسکو بھی نیچے بلا لیا وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے نیچے اتر آئی پھر میں اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکو کمرے سے باہر لے گیا اور دائننگ روم میں پہنچ کر میں نے اس سے کہا چلو اب ٹیبل پر لیٹو ایسے کہ تمہارے کولہے میری جانب ہوں اور ٹانگیں فرش پر اب وہ ٹیبل پر پیٹ سے سر تک لیٹی ہوئی تھی جبکہ ٹانگیں نیچے فرش پر تھیں میں نے لنڈ کو اسکی گانڈ پر سیٹ کیا اور دھکا مار کر لنڈ ایک بار پھر سے اسکی گانڈ میں گھسیڑ دیا۔ اسکو ایک زور کا دھکا لگا اور پوری ٹیبل ہل گئی مگر میرا لنڈ اسکی گانڈ میں راج کررہا تھا۔ اب میں نے اپنی رفتار بڑھائی اور دھکے تیز کردیئے ہر ہر جھٹکے پر اسکو لذت مل رہی تھی اور اسکے بڑے بڑے اور نرم نرم گرم گرم کولہے میرا جوش مزید بڑھا رہے تھی میں نے دونوں ہاتھوں سے اسکے ممے پکڑ لیے اور انکو بری طرح مساج کرنے لگا۔ میں چونکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اپنی منی نکال کر فارغ ہوا تھا اس لیے میرے پاس کافی وقت تھا۔میں اسکو دھکے مارتا رہا اور پھر وہ ایکدم سے فارغ ہوئی اور اسکی چوت نے ڈھیر ساری منی اگلی اور اسکی ٹانگیں لڑکھڑا گئیں میں نے اسکو سہارا نہ دیا ہوتا تو وہ لازمی نیچے گر جاتی۔ اس نے کہا جی جا بس کرو میری ٹانگوں میں اب جان نہیں ہے میں کھڑی نہیں رہ سکتی میں نے کہا ہمت کرو تھوڑا اور میں بھی فارغ ہو جاؤں تو پھر واپس بیڈ پر چلتے ہیں۔میری بات سن کر وہ خاموش ہوگئی میرالنڈ ابھی فارغ نہیں ہوا تھا سو وہ مستقل تنا ہوا اسکی گانڈ میں ہی تھا۔ میں نے دوبارہ سے جھٹکے مارنا شروع کردیا۔ اسکی گانڈ پوری طرح کھل چکی تھی اور مسلسل میرے لنڈ کا ساتھ دے رہی تھی اب میرا لنڈ بڑی روانی سے اسکی گانڈ میں آ جا رہا تھا۔ پھر وہ لمحہ آیا جب مجھے اسکی گانڈ میں فارغ ہونا تھا میں نے کھڑے کھڑے اسکی گانڈ میں ہی منی اگلنا شروع کردی مگر اسکے ساتھ ہی سمیرا بھی فارغ ہوئی اور اسکی چوت سے پھر ایک بار منی نکلنا شروع ہوئی۔ اور وہ ایک بار پھر سے لڑکھڑا گئی اور گرنے ہی لگی تھی کہ میں نے اسکو پھر سنبھالا۔ اب وہ کھڑی رہنے کے قابل نہیں تھی۔ میں نے اپنے لنڈ کو خالی کر کے اسکو گود میں اٹھایا اور لے کر واپس بیڈ روم میں آیا اور جو جوس اور فروٹس رکھے تھے وہ اسکو بھی دیئے اور خود بھی کھائے وہ بالکل مدہوش ہو رہی تھی اسکو اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے اور کیا ہو رہا ہے۔ ذرا دیر بعد اسکے حواس بحال ہوئے تو اس نے کچھ کھایا اور جوس پیا پھر میری جانب دیکھا اور کہا تم بہت ظالم ہو مار ڈالا تم نے مجھے میں نے اس سے کہا جو سیکس کا مزہ تم دے رہی ہو اور جس طرح سیکس تم کر رہی ہو تمہاری بہن حمیرا بھی ایسا نہیں کرتی۔تم بڑی سیکسی ہو سمیرا۔ میری بات سن کر وہ تھوڑا سا شرمائی اور کہنے لگی مگر تم بہت ظالم ہو تم نے برا حال کردیا میرا۔ میں نے کہا ابھی تو کچھ بھی نہیں کیا جان من کل کا دن بھی باقی ہے ۔ فروٹس کھا کر اسکے بدن میں جان آگئی تھی۔میں اسکو گود میں اٹھا کر باتھ روم میں لے گیا اور کہا چلو اب نہا کر سوتے ہیں باقی کا سیکس کل کرتے ہیں نہانے کے دوران ایک بار پھر میں نے اسکی چوت کو اپنی منی سے بھرا مگر اب مجھ میں بھی طاقت ختم ہو رہی تھی کہ آج کی رات اسکو اور سیکس دے سکوں۔ سو ہم دونوں نے ایک ساتھ نہا کر میرے ہی بیڈ ہر ایک ساتھ ننگے سو گئے۔ پھر میں نے اگلے دن آفس کی چھٹی کی اور پورے دن اسکا چود چود کر برا حال کردیا اسکو شام تک بخار چڑھ چکا تھا اب میں پریشان ہونے لگا کیونکہ میری بیوی نے اگلے دن واپس آنا تھا۔ سو اس سے پہلے سمیرا کا ٹھیک ہونا ضروری تھا خیر میں نے اسکو مکمل آرام دیا اور اگلی صبح تک وہ ٹھیک ہوچکی تھی اسکا بخار ضرورت سی زیادہ منی نکلنے اور میری بہت ساری منی اپنی چوت میں بھرنے سے چڑھا تھا۔ اگلے دن تک وہ کافی ٹھیک تھی۔ اپنی بیوی کے آنے سے ایک گھنٹے پہلے پھر میں نے ایک بار اسکی زبردست چدائی کر ڈالی ۔ اسکے بعد بھی جب بھی ہمیں موقع ملا ہم نے سیکس کا بھرپور مزہ لیا۔

CHOTI SISTER KI CHUDI

ہیلو دوستو آج میں اپ کو اپنی کہانی سناتا ہوں
میرا نام ارسلان ہے اور میں کراچی میں رہتا ہوں میری فمیلی ٦ افراد پر مشتمل ہے جن میں میری تین بہنیں میں امی اور ابو شامل ہیں مجھے سے بری بہن کا نام شہناز ہے عمر ستائیس سال پھر میں عمر پچیس سال پھر مجھ سے چھوٹی بہن گل ناز عمر چوبیس سال آخر میں سب سے چھوٹی آسیہ انیس سال کی ہے ابو کا اپنا بزنس تھا یہ اس وقت کی بات ہے جب میں ساتویں کلاس میں تھا اور میری بہن آٹھویں کلاس میں تھی مجھ پر نئی نئی جوانی آئی تھی سیکس کا بہت دل کرتا تھا پر گزارا صرف مٹھ پر ہی چلتا تھا ایک دیں میں اسکول سے واپس آ کر کپڑے تبدیل کر رہا تھا کے مجھے برابر سے آواز آئی میں کھڑکی کی طرف گیا اور دیکھا کے میری بڑی بہن اپنے کپڑے تبدیل کر رہی تھی اسکی قمیض اُتری ہوئی تھی اور وو اپنا بریزر اتار رہی تھی اسکا بریزر اترا تو اسکے سفید سفید گول ممے دیکھ کر میرا لنڈ کھڑا ہو گیا اس نے دوسری قمیض پہنی اور اپنی شلوار اتار دی پر میں یہ نہ دیکھ سکا کے شلوار کے نیچے کیا تھا کیونکے اس کی قمیض آگے تھی میرے لئے اتنا ہی کافی تھا کیونکے میں نے پہلی دفعہ کسی کے ممے دیکھے تھے میں نے مٹھ مارنی شروع کی اور فارغ ہو گیا پر آج فارغ ہونے کا مزہ الگ تھا تو دوستو اس کے بعد میں اکثرمٹھ مارتے وقت اپنی بہن کا خیال دل میں رکھتا تھا پر کچھ کرنے کی ہمت نہ تھی جب میں نویں کلاس میں پہنچا تو اس وقت ایک فلم نینا آئی تھی وو میں نے دیکھی اور اور اس کے بعد اپنی بڑی بہن کو چودنے کا پلان بنانے لگا پر یہ ہی تو مشکل تھی کے کیسے ایک دیں ہم دونو اسکول سے واپس آے تو میری بہن کپڑے تبدیل کرکے سونے چلی گئی ایک گھنٹے کے بعد میں اس کے کمرے میں گیا تو سو رہی تھی امی اور دوسری بہنیں دوسرے کمرے میں تھیں میں نے اپنی بڑی بہن کے ایک ممے پر ہاتھ رکھا اور اس کو دبانے لگا مجھے مزہ آ رہا تھا مزے مزے میں میں نے زور سے دبا دیا اور وو جاگ گئی مجھے اتنا قریب دیکھ کر ڈر گئی اور بولی کیا کر رہے ہو میری تو آواز ہی بند تھی بڑی مشکل سے جواب دیا کے میری بک نہیں مل رہی تپ کے چلائی امی ...امی آئیں تو میری بہن بولی اس سے پوچھیں یہ کیا کر رہا تھا امی بولیں کیا مسلہ ہے تو میں نے جواب دیا کے میری بک نہیں مل رہی امی مجھے باھر لے آئیں اور بولیں کے جہاں جوان بہن سو رہی ہو وہاں نہیں جاتے میں بولا ٹھیک ہے اس کے بعد کبھی کچھ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی پر اپنی بہن کو چودنے کا بہت دل کرتا تھا وقت گزرتا رہا اسی دوران ہم دونوں نے انٹر پاس کر لیا اسی دوران میرے ابو کا انتقال ہو گیا اور میں کاروبار میں مصروف ہوگیا وقت گزرتا رہا چونکے اب کاروبار میرے ہاتھ میں تھا پیسہ تھا پاس دو تین دفعہ چودائی بھی کر چکا تھا پر اپنی بہن کو چودنے کا خیال دل سے نہیں نکال پا رہا تھا بلکے اب تو ضد سی ہو گئی تھی یہ جون ٢٠٠٣ کی بات ہے میں اپنے کمرے سے باہر آیا تو دیکھا کے میری بڑی بہن کپڑے دھو رہی تھی اس نے لان کا سوٹ پہنا ہوا تھا جو گیلا ہو کے اس کے جسم سے چپکا ہوا تھا اس کی ایک ایک چیز نظر آ رہی تھی میرا لنڈ کھڑا ہو گیا میں باتھ روم گیا اور مٹھ ماری تو تھوڑا سکون ملا اس دن میں نے سوچ لیا کے ایک دفعہ تو اپنی بڑی بہن کو چودوں گا اس کے بعد جو ہو گا دیکھا جاۓ گا ایک دن میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا کے ایک آئیڈیا آیا میں جلدی آفس سے نکلا راستے سے میں نے نیند کی گولیاں خرید لیں گھر آ کے امی کو بولا چلو آج کھانا باہر کھائیں گے امی بولیں ہاں جب سے تیرے ابو فوت ہوے ہیں بچیاں باہر نہیں گیں سب خوش ہو گے اور تیار ہو کر گاڑی میں بیٹھ کر سی ویو کی طرف چلے راستے سے میں نے تکے لئے پر پانی جان کے نہیں لیا پھر میں نے گاڑی مرینا کلب والے روڈ پر موڑ دی وو راستہ ویران رہتا ہے وہاں بیٹھ کے ہم لوگوں نے کھانا کھایا سب کو پیاس لگی تو میں بولا ارے پانی تو لیا ہی نہیں آپ کھاؤ میں دو منٹ میں آیا میں جلدی سے کے ایف سی آیا اور وہاں سے کولڈرنک لی باہر آ کر میں نے ایک کے سوا سب میں نیند کی گولیاں ملا دیں میں امی لوگوں کے پاس آیا سب کا پیاس سے برا حال تھا میں نے سب کو کولڈرنک دی جو انہوں نے پی لی پھر میں بولا چلو اب مین سی ویو چلتے ہیں وہاں جا کر میری بہنیں پانی مین جانے کی ضد کرنے لگیں پر امی نے اجازت نہ دی مجھے معلوم تھا کے یہ پانی مین تھک جایں گی اور گولی بھی جلد اثر دکھاۓ گی مین نے امی کو بولا مین ان کے ساتھ جاتا ہوں امی بولیں جلدی آنا وو سب خوشی خوشی پانی میں گیں اور ایک دوسرے پر پانی ڈالنے لگیں میں نے بھی اپنی بڑی بہن کو ٹارگٹ کیا اور اس کو پورا گیلا کر دیا اس کا جسم نظر آنے لگا میرا لنڈ پھر کھڑا ہونے لگا پر میں نے صبر کیا ایک گھنٹے کے بعد میں نے دیکھا کے سب اب برے طریقے سے تھک گیں ہیں ہم لوگ پانی سے باہر آے امی کی بھی نیند سے بری حالت تھی وو بولیں چلو گھر چلیں ہم لوگ رات ١١ بجے گھر آے سب کا نیند سے برا حال تھا سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گۓ میں اب لیٹ کے انتظار کرنے لگا رات دو بجے میں اپنی بہنوں کے کمرے میں گیا وو سب سو رہی تھیں پھر میں امی کے کمرے میں گیا وو بھی گہری نیند میں تھیں میں واپس اپنی بہنوں کے کمرے میں آیا اور اپنی بڑی بہیں کے پاس لیٹ گیا اور اس کو دیکھنے لگا کیا چیز تھی وو پھر میں نے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھا اور سہلانے لگا پھر میں نے اپنا ہاتھ اس کی چھاتی پر رکھا مجھے ایک دم کرنٹ لگا اسنے بریزر نہیں پہنا تھا شاید آ کے اتار دی تھی میں نے اس کی قمیض اوپر کی اور اسکے ممے چوسنے لگا پھر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور ان کو چوسنے لگا میں نے اپنی بہن کی شلوار اتارنی چاہی تو دیکھا کے اس نے آزاربند باندھ ہوا ہے میں نے وو نہیں کھولا پھر میں نے اپنے کپڑے اتار دیے اور اپنی بہن کی سائیڈ پی بیٹھ کر اس کے ممے چوسنے لگا میری منزل میرے سامنے تھی پر میں اندر نہیں کرسکتا تھا کیونکے اس کو پتا چل جاتا اور ہنگامہ ہو جاتا میں نے سوچا کیوں نہ بہن کی چوت چاتی جائے شلوار تو اتاری نہیں تھی میں نے اپنی بہن کی ٹانگیں کھول کر اس کی چوت پر اپنا منہ رکھا مجھے عجیب سی بو محسوس ہوئی اور میرا دل خراب ہو گیا دوبارہ ہمت نہ ہوئی پھر میں اٹھا اور اپنی بہن کے گال گال دبا کر جگہ بنائی اور اس میں اپنا لنڈ ڈالنے لگا پر نہیں دل سکا پھر میں اپنی بہن کے اوپر آیا اور اس کے مموں میں اپنا لنڈ رگڑنے لگا مجھے بہت مزہ آ رہا تھا پھر میں فارغ ہوگیا میری منی میری بہن کے سینے اور گردن پر گری تھی میں نے وو صاف کی اور اس کے کپڑے سہی کر کے اپنے کمرے میں آ گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا تھوڑی دیر کے بعد میں پھر ان کے کمرے میں گیا اب میرے دماغ میں کچھ نیا تھا اب میں اپنی چھوٹی بہن گلناز کے بس گیا اور اس کی قمیض اوپر کرکے اس کے ممے چوسنے لگا اس نے پینٹ پہنی تھی میں نے آرام سے اس کی پینٹ اتار دی اور اس کو اٹھا کر بڑی بہن کے پاس لے آیا اور بڑی بہن کی قمیض اوپر کر دی اور اس کے ممے چوسنے لگا اب میں اپنی چھوٹی بہن کے اوپر لیت گیا اور اپنا لنڈ اس کی چوت پر رگڑنے لگا اور ساتھ ساتھ بڑی بہن کے ممے چوسنے لگا مجھے بہت مزہ آرہا تھا میرا دل چوت چاٹنے کو کر رہا تھا پر اس بو سے ڈر تھا میں فریج کے پاس آیا اور اس میں سے سرکے کی بوتل نکال کر ایک کپڑے پر سرکا لگایا اور اس سے اپنی چھوٹی بہن کی چوت صاف کرنے لگا سرکا ہر قسم کی بو ختم کر دیتا ہے اور ہو گئی پھر میں نے اپنی چھوٹی بہن کی چوت چاٹنے لگا پھر میں نے اپنا لنڈ اپنی چھوٹی بہن کی چوت پر رگڑنے لگا پر اندر نہیں کیا اور بڑی بہن کے ممے چوسنے لگا تھوڑی دیر کے بعد میں فارغ ہو گیا

جی دوستو ابھی کہانی بہت ہے پر پتا نہیں اپ کو پسند آئی یا نہیں اگر پسند ہے تو مجھے رپلائی کرنا میں اور اپ کی خدمت میں پیش کروں گا ورنہ یہیں ختم کر دوں گا مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا